MIR KHALEEQ

★ میر مستحسن خلیق ؔ ★

میر خلیق میر حسن کے بیٹے اور میر انیس کے والد تھے۔ پہلے غزل کہتے تھے پھر مرثیہ گوئی اختیار کی ۔ خلیق کے اصل جوہر مرثیہ گوئی میں کھل کر سامنے آئے۔ انھوں نے میر ضمیر، مرزا فصیح اور دلگیر کے ساتھ مل کر اردو مرثیے کو ایک ادبی صنفِ سخن کی حیثیت سے احسان بخشا ۔ مقابلہ ضمیر سے رہا۔ دونوں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے جس کا نتیجہ مرثیہ کی ترقی کی صورت میں نکلا۔

شہ نے کہا گر پانی پلانا بھی ہے دشوار
تو اس گھڑی حملہ نہ کرو مجھ پہ سب ایک بار
ایک ایک لڑو مجھ سے تم اے ستمگار
وہ بولے کہ تم ہو خلف ِ حیدر ِ کرارؑ
کثرت پہ ہے دم اس پہ کسی کے دم نہیں
ایک ایک لڑیں تم سے یہ طاقت ہم میں نہیں
فرزند ہو تم اس کے جو تھا قاتل ِ عنتر
والد نے تمہارے ہی اکھاڑا در ِ خیبر
پائ ہی نہیں فتح کسی فوج نے اس پر
فرزند سے ایسے کے کوئ لڑ سکے کیوں کر
جرات ہے وہی تم میں وہی شوکت و شاں ہے
قبضے میں تمہارے وہی تیغ ِ دو زباں ہے

شہ سمجھے کہ ایک ایک نہیں لڑنے کا ہم سے
کیا غم ہے کہ ہم سب سے اکیلے ہی لڑیں گے
پھر سوۓ فلک ہاتھ اٹھا کر لگے کہنے
میں کہہ چکا اعدا سے تیرے حکم کے نکتے
اے خالق ِ اکبر کوئ منت نہیں باقی
شاہد میرا تو رہیو کہ حجت نہیں باقی

Source: All 34 Marsiyas were published by Marsiya Foundation, Karachi

Special Thanks to Zeeshan Zaidi for short biography

MARASI E MIR KHALEEQ

TOTAL MARSIYA = 34

287total visits,1visits today

Spreading Marsiyas Worldwide