MIR MASROOR – میر مسرور

میر محمد علی مسرورؔ

حیدرآباد دکن کے نامی شاعر جناب میر محمد علی مسرور نے 15 محرم 1370 ہجری 1950 کو انتقال فرمایا۔ میر محمد علی نام ، مسرور تخلص . 1298 ہجری 1878 میں حیدرآباد میں پیدا ہوئے. اردو اور فارسی کی تعلیم گھر پر اپنے والد ہی سے حاصل کی. ادبیات عربی ، منطق اور حدیث کی تکمیل آقا سید علی شوستری ، حسو میاں ، مولانا عبد الصمد ، مولوی احمد الله حسینی ، مولوی غلام عابد اور مولانا علی نقی نے کرائی . مسرور نے 14 برس کے سن میں شعر کہنا شروع کیے. اصغر حسین ناجیؔ سے تلمذ تھا . مسرور ایک قدر الکلام شاعر تھے . ان کا کلام شاعری کی تقریبا تمام اصناف ، غزل ، رباعی ، قطعہ ، قصیدہ ، سلام ، نوحہ اور مرثیہ میں ملتا ہے لیکن سفر آخرت کے لیے مدح آل نبی اور ماتم داری شہید کربلا ہی کو زاد راہ بنایا

رایتِ لشکرِ توصیف ہے خامہ میرا
روکشِ مہر ہے قرطاس مصفا میرا
رزم کی صف ہے ہر ایک مصرعِ زیبا میرا
فیض ِ مدحت سے ہوا اوج دوبالا میرا
نہیں مسرورؔ جو اس رہ میں قدم رک جائے
ہاتھ کٹواؤں جو چلنے میں قلم رک جائے

میرے قبضے میں رہا قلزم ِ مواج ِ سخن
میں نے حاصل کیا لڑ بھڑ کے سدا باج ِ سخن
جان دیتا ہوں پے ابروے تاج ِ سخن
میرا عہدہ ہے علمداری ِ افواج سخن
راہ ُپرخوف یم ِ مدح کا فتاح ہوں میں
کیوں نہ ہو حضرت عباسؑ کا مداح ہوں میں

امام حسینؑ کی مدح کرتے ہیں

نور ِ خدا تجلی ِ عرفاں حسینؑ ہے
قرآں گواہ معنی ِ قرآں حسینؑ ہے
شاہ ِ ُامم ، خلیفہ ِ رحماں حسینؑ ہے
ایمان ہے حسینؑ ، مری جاں حسینؑ ہے
اس کے قدم سے دور ِ جہاں کا ثبات ہے
روح ِ امام مرکز ِ روح ِ حیات ہے

مہرِ وقار ِ علم ِ رسالت حسینؑ ہے
آئینہ دار نور ِ مشیت حسینؑ ہے
خط ِ سفید ِ مطلع ِ وحدت حسینؑ ہے
صبح سعید ِ عالم قدرت حسینؑ ہے
اک جوہرِ لطیف ہے طینت حسینؑ کی
مجموعہ ِ رموز ہے خلقت حسینؑ کی

شبیرؑ کی ہے روح یہ ہے فاطمہؑ کی روح
جو اس کی روح پاک وہی مرتضیٰؑ کی روح
روح ِ حسینؑ اصل میں ہے مصطفیٰﷺ کی روح
کلمہ ہے یہ خدا کا اس میں خدا کی روح
انساں کی روح میں یہ کہاں اختصاص ہے
نسبت جو خاص مل گئی جوہر بھی خاص ہے

ایماں کے باغباں کی ریاضت حسینؑ ہے
روح نسیم باغ مشیت حسینؑ ہے
فرمان ِ بے نیاز کی قوت حسینؑ ہے
نام خداے پاک کی شوکت حسینؑ ہے
توڑا جو دم تو کفر کا نقشہ بگاڑ کے
اٹھا جہاں سے رایت وحدت کو گاڑ کے

جس نے خدا کے راستے دکھلاۓ وہ حسینؑ
جس سے شجر نے دین کے پھل پاۓ وہ حسینؑ
ہر ایک کی مشکل میں جو کام آۓ وہ حسینؑ
امت نے جس کی قدر نہ کی ہاۓ وہ حسینؑ
جس کو زباں چوسای رسولﷺ نے
پالا تھا جس کو پیس کے چکی بتولؑ نے

فرماتے ہیں کے اے سپاہ ِ شام ہوشیار
ہاں سرکشو ، گروہ ِ بدانجام ہوشیار
الفت کی ُخو دکھا چکا ناکام ہوشیار
اب اور طرح چلتی ہے صمصام ہوشیار
جانوں جبھی جو شیر کو سب مل کے ٹوک لو
بڑھتا ہے اب حسینؑ ذرا بڑھ کے روک لو

سیدھے ہوئے فرس پہ شہ لا فتی’ کی طرح
جھپٹا سمند فوج ِ گراں پر قضا کی طرح
چمکایا ذوالفقار کو دستِ خدا کی طرح
بھرپور وار ہونے لگے مرتضیٰؑ کی طرح
اندازہ قضا میں ہیں خود سر تلے ہوئے
گرتے ہیں دونوں ٹکڑے برابر تلے ہوئے

نالہ کناں ہیں اہل ِ ستم اب امان دو
اے جان ِ جان ِ شاہ ِ ُامم اب امان دو
کرتے ہیں یہ اشارے َعلم اب امان دو
میداں سے ہاتھ اٹھا چکے ہم اب امان دو
پرچم میں اب وہ شان نہیں آن بان کی
فوجی نشاں ہلاتے ہیں چادر امان کی

وہ سر جھکاۓ سامنے ارواح ِ انبیا
گھیرے ہوئے حسینؑ کو وہ روح ِ اقربا
وہ نیم جاں وہ منتظر حکم ِ کبریا
وہ لطف بے نیاز وہ ناز آخریں صدا
میرے حبیب قصد خضوع و خشوع کر
اے نفس ِ مطمئن میری جانب رجوع کر

رکنا تھا تیغ کا کہ ہوا محشر آشکار
بھاگی ہوئی سپاہ پلٹ آئ ایک بار
حربے سنبھالے دوڑ پڑے سارے نابکار
بیکس پہ سامنے سے چلے تیر دس ہزار
بہنے لگا لہو نبیﷺ خوش خصال کا
غربال جسم ہوگیا زہراؑ کے لال کا

ڈاکٹر ہلال نقوی نے دکن کے مرثیہ نگار شاعر میر باقر امانت خانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ میر مسرور نے 20 مرثیے تصنیف کیے جو ان کے شاگرد میر سعادت علی خان سرتاج کے پاس محفوظ رہے. ان کے انتقال کے بعد اس کے فرزند کے پاس رہے . باقر امانت خانی سے خود کو میر مسرور کا شاگرد تسلیم کیا۔ میر مسرور کے مراثی شائع نہیں ہو سکے . ان کے جو 5 مرثیے ان کے شاگرد جناب باقر امانت خانی کے پاس تھے ان مرثیوں کو باقر امانت خانی کے فرزندوں نے 1994میں شائع کیا تھا

میر مسرور کے الفاظ میں ثانی زہرا ع کے بین ملاحظہ کیجیے . یہ ہیں کلاسیکی مرثیے کے بین

تم پہ اماں ہوں فدا ، پھر تو پکارو اماں
بچو برباد ہوئے سب میرے دل کے ارماں
میرے دلدارو تمھیں پاے یہ دلگیر کہاں
ہاے آخر نہ ملی موت کے پنجے سے اماں
چل بسے گلشن فردوس کو پیارے دونوں
مجھ کو بے آس کیا اور سدھارے دونوں

بچو یہ کیا کیا اب ہو میری کس طرح گزر
جیتی میں رہ گئی دنیا سے کیا تم نے سفر
کون اب نزاع کے ہنگام میری لے گا خبر
کون تا گور مرے ساتھ رہے ننگے سر
پوچھ کر بھی تو نہ دیکھیں گے زمانے والے
اٹھ گئے میرے جنازے کے اٹھانے والے

میر مسرور کی زندگی کے آخری ایام بہت دکھ میں گزرے . اس کے تیرہ لڑکے لڑکیوں میں کوئی زندہ نہ رہا . دل پر تیرہ بچوں کی موت کے داغ لیے ایک حساس شاعر نے زندگی کے آخری دن کیسے گزارے ہونگے اس کا اندازہ اہل درد ہی کر سکتے ہیں . پروردگار ان کی لحد پر گہر فشانی فرماے

Short Introduction by Zeeshan Zaidi Sahib, UK

مراثئ  مسرور

آئینہء رموز کا جوہر حسین ہے

AINA E RAMOOZ KA JOHAR HUSSAIN HAI

TOTAL MARSIYAS = 1

Total Page Visits: 49 - Today Page Visits: 2

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide