PAYAM AZMI

4+

  پیام اعظمی 

ایک خاندان جہاں شب و روز انیس و دبیر کو سنا جاتا تھا وہاں 1935 میں ایک انمول ہیرے نے جنم لیا ۔ پیام اعظمی کے اشعار الفاظی بازیگری نہیں بلکہ فکر بیداری ہوتے ہیں۔ عرصہ ہوا کہ ملک کی سرحدیں پار کرکے عالمی مقبولیت حاصل کرتے جارہے ہیں ۔ اس عمر میں بھی وہ پرجوش ببر شیر انداز کہ کیا کہنے ۔ اللہ عزوجل پیام صاب کو صحت بخشے ۔

طاقت پر کیوں اتراتے ہیں دین الہی کے دشمن
بیٹھا ہوا ہے پردے میں تلوار لیۓ اک قلعہ شکن
سلسلۂ عصمت کا خلاصہ ، سینۂ گیتی کی دھڑکن
آرزوۓ زہراؑ و پیمّبر جان حسین و روح حسنؑ
بدر و احد سے بھاگنے والو آخری حملہ باقی ہے
چودہ صدیا ں بیت گئیں شبیرؑ کا چرچا باقی ہے

لاکھ مٹاو مٹ نہ سکے گا آل نبی کا نام و نشاں
لاوارث سمجھو نہ اسے خالق اکبر کا ہے مکاں
بیت سے اہلبیت کا رشتہ کیا توڑیں گے اہل جہاں
کیا جانے کب بام حرم پر گونج اٹھے آواز اذاں
اے کعبہ کے ٹھیکیدارو کعبے والا باقی ہے
چودہ صدیا ں بیت گئیں شبیرؑ کا چرچا باقی ہے
——————————
جو مشکلیں ہیں تو مشکلکشا بھی ہوگا کوئ
ہیں غم تو غم کی دوا بھی ہوگا کوئ
جو قافلے ہیں تو پھر رہنما بھی ہوگا کوئ
خدا اگر ہے تو پھر ناخدا بھی ہوگا کوئ
ہے درد دل تو کہیں دل کا چین بھی ہوگا
یزید لاکھوں ہیں تو کوئ حسین بھی ہوگا
————————–
علیؑ کی تیغ ہے پھر بے نیام بھاگ چلو
جگہ حرم میں نہیں سوے شام بھاگ چلو
اجل کو یاد ہیں ہم سب کے نام بھاگ چلو
کہ بھاگنا ہی تو ہے اپنا کام بھاگ چلو
اماں نہیں ہے کہیں کارزار ہستی میں
کچھار چھوڑ کر شیر اگیا ہے بستی میں

علی کہیں گے نجف سے کہ مرحبا بیٹا
تیرے نثار تیری جنگ پہ فدا بیٹا
بچے نہ آج کوئی بانی جفا بیٹا
نکال دے دل حیدر کا حوصلہ بیٹا
میں حد صبر میں تھا کار زار تیری ہے
مجھے ملی تھی مگر ذولفقار تیری ہے

اٹھے گا شور صف کار زار سے بھاگو
برس رہی ہے اجل ذولفقار سے بھاگو
کوئی کہے گا نبی کے دیار سے بھاگو
صدا کسی کی نکل کے مزار سے بھاگو
قباے ظلم و تشدد کو پھاڑنے والا
پھر آ گیا در خیبر اکھاڑنے والا
———————————–
جو دامن شہ دلدل سوار ہاتھ میں ہے
تو سمجھو رحمت پروردگار ہاتھ میں ہے
علیؑ نے کھائ ہے زہرا کے ہاتھ کی روٹی
جب ہی تو قوت پروردگار ہاتھ میں ہے
یہ سوچ کر نہ دکھایا علی کو زخم اپنا
خدا کا شیر ہے اور ذوالفقار ہاتھ میں ہے

Special Thanks to Zeeshan Zaidi for this short introduction

MARASI E PAYAM AZMI

 

ASHAAB E AHLEBAIT

BIDAT

HIJRAT

QALAM

SILSILA E ISMAT

TOTAL MARSIYAS = 5

 

 

946total visits,3visits today

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide