KHALISH PIR – خلش پیر

 

خلش پیر اصحابی

 نومبر 1921 میں پیدا ہوئے. ان کے والد محمد بخش خان بلوچ اپنے علاقہ کے معزز زمیندار تھے. علامہ ضمیر اختر نقوی مرحوم کے مطابق خلش نے 1938 میں شاعری کی ابتدا کی. 1946 میں بذریعہ خط و کتابت نجم آفندی سے اصلاح لی اور زیادہ تر سلام ، نوحے ، قصیدے اور مرثیے کہنے لگے . غزل میں اسعد شاہ جہاں پوری کے شاگرد ہوئے. ان کی تصانیف میں تہذیب ماتم ، شہر غم ، ابر غم ، چراغ فکر ، حسین اور اسلام ، گلزار وفا ، دھوپ اور کربلا شایع ہو چکی ہیں۔ پنجابی مرثیوں کا مجموعہ بھی ہے لیکن اس کی اشاعت کی کوئی معلومات نہیں. ایک خوبصورت سلام ملاحظہ کیجیے

محبت ہے مجھے الله کے محبوبﷺ کے گھر سے
مہکتی ہے ہر اک بیت مرصّع مصرعہ ِ تر سے
مرے حصے کی آتی ہے کنار ِ حوض کوثر سے
میں وہ سائل نہیں جو مانگتا پھرتا ہو در در سے
بھٹکتے ہی رہیں گے وہ جہالت کے اندھیرے میں
نہیں کچھ فیض حاصل جن کو شہر علم کے در سے
اسی سے ذہن کے اندھے کنوئیں روشن ہوئے اکثر
ضیاے فکر ملتی ہے غم ِ سبطِ پیمبرﷺ سے
سناتے ہی رہے دنیا کو ہم پیغامِ شبیریؑ
تشدد کے سیہ بادل بہت گرجے بہت برسے
دلوں کی سرزمیں میں آج تک بے تاب پھرتا ہے
اٹھا تھا درد کا طوفاں جو خون ِ حلق ِ اصغرؑ سے
فضائیں گونجتی ہیں آج تک آواز آتی ہے
زمانہ جاگتا ہے نعرہ ِ تکبیر ِ اکبرؑ سے
گلے کٹوا دیے اہلِ وفا نے کس تہور سے
جہانِ ظلم میں پانی جب اونچا ہوگیا سر سے
خلشؔ آنکھوں پہ رکھتے ہیں فرشتے میری نظموں کو
ملا ہے مرتبہ وہ مدحتِ آلِ پیمبرﷺ سے

خلش کے مرثیوں میں نجم آفندی کا رنگ نمایاں ہے تاہم انھوں نے جدید مرثیے میں نے تجربے بھی کیے. غیر مطبوعہ مرثیے کے دو بند دیکھئے

ہر آنکھ کو ہے جلوہ ِ راحت کی آرزو
ہر دل کو آستان ِ محبت کی آرزو
دولت کی آرزو ہے نہ سطوت کی آرزو
اس دور کو ہے عہد ِ مسرت کی آرزو
ہر سمت ظلم و خوف کی ظلمت ہے آج بھی
بہتر معاشرے کی ضرورت ہے آج بھی

چہروں پہ اعتماد کی ضو پھیلتی رہے
انساں کی طرح دہر میں ہر آدمی رہے
شاہی سے کم نہ مرتبہ ِ مفلسی رہے
نادار کی سماج میں عزت بنی رہے
جھومر ہو عظمتوں کا جبینِ حیات پر
انسان فخر کرسکے ذات و صفات پر

خلش کے مرثیے “مجاہدہ ِ کربلا” سے کچھ بند احباب کی نظر

تھی لاڈلی بتولؑ کی مخدومہ ِ جہاں
چہرے سے تھا علیؑ کا جلال و ہشم عیاں
شبیرؑ سے امام کی یہ تھی مزاج داں
ہر منزلِ الم میں رہی شاد و کامراں
ُخلق اس کا ُخلقِ فاطمہؑ علم اس کا علم ِ حق
ہیبت سے اس کی رنگِ ُرخ ِ کفر و شر ہے فق

زینبؑ ثبات و صبر میں تھی فاطمہؑ نظیر
پیغمبری مزاج ملا ہے اسے ضمیر
کردار ساز ماں نے پلایا ہے اس کو شِیر
سرمایہ اس کا خون ِ شہنشاہ ِ قلعہ گیر
عصمت میں شان ِ مریم و حوا سے ہے بلند
عظمت میں اوج و شوکتِ بلقیس سے دو چند

تھے رشک مہر و ماہ وہ زینبؑ کے لالہ فام
مارے گئے فرات کے ساحل پہ تشنہ کام
وہ نیک نام کر گئے روشن جہاں میں نام
دنیا میں ان کے نام سے ذکرِ وفا ہے عام
بن میں سر کٹایا ، تہ ِ شمشیر بھائی نے
پیٹا نہ سر ، ُبکا نہ کی زہرا کی جائی نے

اس کو مقامِ حلمِ پیمبرﷺ عطا ہوا
ممنون اس کے عزم کی ہے فتحِ کربلا
ہوتا نہ آشکار شہادت کا مدعا
کرتی نہ اہتمام اگر بنتِ مرتضاؑ
اس نے جلائی دہر میں وہ شمع آگہی
سب لے رہے ہیں اس سے حقیقت کی روشنی

ایک اور مرثیے “دھوپ اور کربلا” سے چند بند جس میں منظر نگاری کی عمدہ مثالیں ملتی ہیں اور نادر تشبیہات و استعارات ہیں. اس مرثیے میں انفرادیت ہے ، معنویت ہے ، رثائیت ہے حسینیؑ مشن کی تکمیل ہے

وہ پیاس کا دہکتا ہوا بن وہ تیز ُلو
انسانیت کی پیاس کو انساں کی ُجستجو
دستِ وفا میں عالم ِ ہستی کی آبُرو
پیاسوں کے لب پہ شکر کی جاری وہ آبُجو
ہلچل فراتِ غم میں تلاطم فرات میں
پرچم خدا کا سبطِ پیمبرﷺ کے ہات میں

تھے دھوپ میں علم کے پھریرے کھلے ہوئے
عباسؑ مشک بھرنے کو دریا پہ جب چلے
بولی فضائیں تم کو مبارک یہ حوصلے
خنجر جفا کے جور کے ملتے رہے گلے
دنیا کو راہ صبر کی دکھلا گیا جری
پانی کی مشک بھر کے بھی پیاسا رہا جری

فکر حسینؑ ، چاندنی بن کر ہوئی عیاں
گم ہو گئے فضا میں اندھیروں کے سائباں
باطل کی آندھی ختم ہوئی چھٹ گیا دھواں
اونچا خلشؔ ، جہاں میں ہوا قوم کا نشاں
ہر پھول ہے کتاب دبستان ِ حریت
شبیر کا لہو ہے گلستان ِ حریت
خلش کے یوم وفات کی کوئی تاریخ نہیں ملی. پروردگار مغفرت فرماے

ذیشان زیدی

دھوپ اور کربلا

DHOOP AUR KARBALA

 1=مکمل مراثی

Total Page Visits: 121 - Today Page Visits: 1

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide