SHABIH HAIDER

4+

 

پروفیسر شبیہ حیدر

پروفیسر شبیہ حیدر 7 اپریل 1952 کوکراچی میں  پیدا ہوئے ۔ وہ ممتاز دانشور اور استاد پروفیسر کرار حسین کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں ۔ ابتدائ تعلیم گھر میں ہی اپنے والدِ گرامی سے اور والدہ سرتاج بانو سے پائ ۔ اپنے نانا کے دوست ماسٹر عبدالرحمان صاحب سے بھی تعلیم پائ ۔  پھر والد کی مختلف شہروں میں پوسٹنگ کے باعث  میر پور خاص اور  خیر پور بھی رہے۔  یہاں انکے اساتذہ میں میر پور خاص کے ماسٹر اکبر حسین جلالی صاحب کا نام  شامل  ہے ۔ ماسٹر اکبر حسین جلالی صاحب کے گھر کی مجلس میں میر پور خاص میں ہی پہلی مرتبہ سات سال کی عمر میں منبر پر بیٹھ کر رباعیات سنانے سے ذکرِ حسین ؑ کا آغاز کیا ۔

 1961 میں کوئٹہ آنے کے بعد  گورنمنٹ ٹیکنیکل ہائ سکول کوئٹہ میں داخلہ لیا اور یہیں سے میٹرک کیا ۔ اسکے بعد  ڈی جے سائنس  کالج  ، کراچی سے انٹرمیڈیٹ ( پری انجینئیرنگ ) میں کامیابی کے بعد  مزید تعلیم  داؤد  ( نیشنل )انجینئیرنگ  کالج کراچی سے اور  مڈل ایسٹ ٹیکنیکل یونیورسٹی آف انقرہ ، ترکی  سے حاصل کی ۔ بعد میں آئ بی اے ، کراچی  سے ایم ، بی ، اے کی بھی ڈگڑی حاصل کی ۔

شبیہ حیدر صاحب نے اپنے کیرئیر کا آغاز بحیثیت انجینئیر کے کیا ۔ تاہم  1997 میں انہوں نے انجینئیرنگ کے شعبے کو خٰیرباد کہا اور اور اپنے آبائ شعبہِ زندگی یعنی تدریس کی جانب آئے ۔ وہ پہلے ہمدرد یونیورسٹی ، کراچی  اور اسکے بعد آئ بی اے ، کراچی میں استاد مقرر ہوئے ۔   2012 میں آئ بی اے سے وہ اسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے ہیں تاہم آی بی اے ، کراچی کے وزٹنگ فیکلٹی کی  حیثیت سے اب بھی شارٹ کورس کلاسز لیتے ہیں ۔ آج کل وہ انقرہ میں مقیم ہیں اور پاکستان انٹرنیشنل سٹڈی گروپ  ، انقرہ ، ترکی میں معلم کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ 

       پروفیسر شبیہ حیدر ایک منفرد شاعر ہیں ۔ انہوں نے 1969 میں پہلی نظم گنبدِ خضری سے متعلق لکھی اور اس کے بعد سے آزاد شاعری اور نظم و غزل کا سلسلہ جاری ہوا ۔  انہوں نے آزاد رثائ نظموں کی شکل میں مرثیہ لکھ کر جدید رثائ ادب کو مزید ضخامت بخشی ہے۔  ۔ اس سے قبل آزاد رثائ نظم ( مرثیہ ) بہت کم شعرا نے لکھا تھا۔ سب سے پہلی رثائ نظم ” شہسوار ” کے عنوان سے 1980 میں کہی ۔ پابند شاعر میں بھی سلام اور منقبت کہی ہے ۔

 پروفیسر شبیہ حیدر نے آزاد ںطم لکھنے کے سلسلے میں  نہ صرف ناظم حکمت اور دیگر کئ ترکی شعرا کا اردو ترجمہ کیا ہے بلکہ نہج البلاغہ کے کئ خطبات اور اقوال کو بھی آزاد نظم میں پیش کیا ہے۔ ترجمہ نگاری کے سلسلے میں ہی ترکی ٹیلی وژن کی تیار کردہ تاریخی ڈرامہ سیریز درلیس(داستانِ شمشیر و عشق ) کی تمام اقساط کا اردو ترجمہ کیا ۔ یہ ڈرامہ سیریز ہم ستارے چینل پر پیش کی گئ تھی ۔

MARASI E JANAB SHABIH HAIDER

GOSHA E ZINDAAN

HURIYAT

JAWAN BAITA

KHAKISTAR

LAKHT E DIL

MADARAN E GIRAMI KE NAAM

MAQAM E HOO

MASHWARA

QAFILA

SADA E ISTAGHASA

SAFEER

SHAHSAWAR

TILLA E ZAINABIYA

TOTAL MARSIYAS = 13

 

 

621total visits,1visits today

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide