FAREED LAKHNAWI

1+

 

سلطان صاحب فرید لکھنوی ★

میر انیس کے منجھلے بھائ میر انس کے پڑپوتے تھے ۔ فرید لکھنوی کے بعد گلستان مرثیہ میں ایسے پول نہیں کھلے جن کی رنگت اور خوشبو انیسی پولوں جیسی ہو۔ فرید نے جتنے مرثیے کہے ان میں دو سو بند سے کم کوئ مرثیہ نہیں ۔ ان کے اجزاۓ مرثیہ میں انیس کا رنگ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ۔ مثال کے طور پر

گرمی سے تھا نہ فرق حیات و ممات میں
جلتا تھا پانی آگ لگی تھی فرات میں

ان کا ایک شاہکار مرثیہ جس کا مطلع بھی کیا خوب ہے “اظہار حق عبادت پروردگار ہے” امام حسین کے حال میں ہے اس کا ایک بند لاحظہ ہو

نانا کی قبر سے ہوۓ رخصت بچشم تر
بیعت نہ کی یذید کی آخر کیا سفر
اظہار حق کے واسطے چھوڑا خدا کا گھر
کی حرمت حرم کہ لعیں کاٹ لیتے سر
چومے قدم حسین کے راہ الہ’ نے
کعبہ کو دی پناہ شہ دیں پناہ نے

عمر سعد لعیں جب جناب حر کو نتیجے سے ڈراتا ہے تو حر جواب دیتے ہیں

تو جانتا ہے حرب شہ کربلا سے ہے
ہرگز نہیں یہ جنگ و جدل مرتضا سے ہے
گر مرتضا سے ہے تو سمجھ مصطفاۖ سے ہے
ان سے لڑائ ہے تو لڑائ خدا سے ہے

افسوس فرید کی شاعری اور فکر پر زیادہ کام نہ ہو سکا ۔

MARSIYA E FAREED LAKHNAWI

NIKLAY SHABBIR JO KHIAMAY SE GHAZANFAR KI TARAH

TOTAL MARSIYA = 1

348total visits,1visits today

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide