MUZTAR JONPURI

4+

جناب سید عباس حیدر زیدی مضطر جونپوری نے شیراز ہند جونپور کی تحصیل شاہ گنج سے منسلک گوڈیلہ کے ایک زمیندار اور شعرو ادب، فن مرثیہ خوانی اور مرثیہ گوئ سے تعلق رکھنے والےخاندان میں 1944 میں آنکھ کھولی۔ مرثیہ گوئ اور مرثیہ خوانی کے کئ معتبر نام جناب شبر صاحب ابر جونپوری اور اختر حسین اختر صاحب مرحوم آپ ہی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
غزل گوئ سے آغاز کیا۔کچھ عرصے بعد غزل گوئ ترک کر کے قصائد، منقبت،نوحے اور صنف سلام کی  طرف رخ کیا۔وراثت میں ملے ہوئے مرثیہ خوانی کے شوق نے اس مرحلے میں بہت رہنمائ کی اور خدائے سخن میر انیس کے ایک مرثیہ سے مرثیہ خوانی کی ابتداء کی۔شاہ گنج اور جونپور میں کئ مقامات پر مجلسوں اور محفلوں میں شرکت کا موقع ملا اور جو عزت افزائ ہوئ اس نے ذوق شاعری کو جلا بخشی۔
لکھنئو منتقل ہونے کے بعدمرثیہ کی مجالس میں شرکت کی اور مرثیہ خوانی کی۔ 1971 میں آپ نے اپنا پہلا مرثیہ نظم کیا۔
                                    “اے کلیم نور حق دین نبی کے تاجدار”
اس کے بعد دوسرا مرثیہ “اے کربلا  فروغ دہ امتحاں ہے تو” کہا۔
یہ مرثیہ نور وفا کے نام سے 1973 میں شائع ہوا۔
اس کے علاوہ آپ نے سلام، منقبت،رباعیات قصیدے اورقطعات بھی کہے۔2010 میں”انوار کساء “کےنام سے آپ کا مجموعہ قصائد بھی شائع ہوا۔

MARASI E MUZTAR JONPURI

 

AYE KALEEM E TOOR E HAQ DEEN E NABI KE TAJDAR

AYE KARBALA FAROGH DAH E IMTEHAN HAI TU

SAR CHASMA E TAJJALI E KAUN O MAKAN HAI ALM

SHUKR E KHUDA KE ZAKIR E SIBT E RASOOL HOON

AYE KARBALA JALALAT E HAQ KA NISHAN HAI TU

TOTAL MARSIYAS = 5

566total visits,1visits today

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide