JAVED IJHTEHADI

0

 

سید محمد کاظم جاویدؔ لکھنوی اجتہادی

ہم نے مناسب سمجھا کہ استقبال ماہ رمضان المبارک سے پہلے خاندان اجتہاد کے شعراۓ اہلبیت کا سلسلہ بھی شروع کیا جاۓ ۔ اشتر عباس نقوی کے بیحد مشکور ہیں جنہوں نے ہماری توجہ کا رخ خاندان اجتہاد کی طرف پھیرا . خاندان اجتہاد کے نامور شاعر سید محمد کاظم جاویدؔ لکھنوی 1281 ہجری میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے علمی خانوادے کی دھوم تو پورے ہندوستان میں تھی۔ خاندان اجتہاد میں سب سے زیادہ شاگرد جاوید کے ہوۓ جن کی تعداد 250 بتائ جاتی ہے۔ شاعری کی ابتدا کی تو لڈن صاحب خورشید کے شاگرد ہوۓ۔ کتابی چہرہ ، میانہ قد اور وجاہت چہرے سے نمایاں تھی۔ اللہ درجات بلند کرے مصطفی’ حسین نفوی آصف جائسی کے جن کی کاوشوں کی وجہ سے دبستان خاندان اجتہاد بچ گیا ۔ انہوں نے ہی اس خاندان کے شعرا کے رثیے چھاپے ورنہ یہ سب کلام چھپا رہتا . کراچی کے محقق رثائ ادب علامہ ارتضی’ عباس نقوی کے مطابق جاوید کے اب تک 14 مرثیے دستیاب ہوۓ ہیں۔
ہاں عاشق فرزند ہوں میں بھی
ہاں ماہر راز خفی ہوں میں بھی
آۓ ہیں ملائک بھی مجھے سننے کو
مداح حسین ابن علی ہوں میں بھی
مجلس کو جو دوں رنگ تو گلشن کردوں
بلبل کو خموش وقت شیون کردوں
افسردہ دلوں کے سن کے تازہ ہوں کنول
باتوں میں بجھی شمعوں کو روشن کردوں
کس کس کو شرف حق کے ولی سے نہ ملا
کب راز خفی ، سرّ جلی سے نہ ملا
رستہ یہی سیدھا ہے کہیں پھیر نہیں
ہے دور خدا سے جو علیؑ سے نہ ملا
دکن میں 18 سال بعد جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں یہ رباعی پڑھی
یاں آیا تو گویا میں وطن میں آیا
بچھڑا ہوا بلبل تھا چمن میں آیا
کھاتا ہوں شباب علی اکبرؑ کی قسم
اٹھارہ برس بعد دکن میں آیا
ہم نے ان کے ایک مرثیے کے کچھ بند اس پوسٹ میں شیئر کۓ ہیں جو در حال معراج نبیۖ و جنگ جناب علی اکبرؑ سے متعلق ہے۔ بڑے گراں قدر بند ہیں اس مرثیے میں . پر پورا مرثیہ پڑھا جاسکتا ہے
http://noorehidayatfoundation.org/marsiye/
شب معراج کا ہے ذکر جو منظور نظر
آسماں پر نکل آۓ ہیں ہزاروں اختر
جانتا ہی نہیں کوئ کسے کہتے ہیں سحر
کھینچے لیتا ہے سیاہی کو ادھر دل ميں قمر
آج سامان بھی زینت کے نۓ سارے ہیں
رات کی زلف پہ افشاں ہے کہ یہ تارے ہیں
پہنچے جب چرخ چہارم پہ رسول اکرم
ہنس دیے دیکھ کے عیسیؑ کی طرف شاہ امم
کہا عیسیؑ’ نے کہ میں چوم تو لوں بڑھ کے قدم
دیکھیے آج سے اب آپ کہاں اور کہاں ہم
گھر کو چھوڑ آیا تھا میں دل کی تمنا کے لیے
ہوش میں بھی رہا اس برق تجلّی کے لیے
معتبر ہیں جو کتب درج ہے ان میں یہ خبر
ہاتھ پردے سے کسی شخص کا نکلا باہر
ہاتھ کو دیکھ کے خوش اور ہوۓ پیمبرۖ
آسماں پہ پھر انہیں مل گیا دست حیدرؑ
ہوگیا قوت بازو شہ ذیجاہ کا ہاتھ
آج پردے ہی کے باہر ہے یداللہ کا ہاتھ
ثانئ احمد مرسل بھی ہے ان کا خطاب
کوئ دیتا تو نبی کی بھی جوانی کا جواب
ان سے دوری کی حسینوں کو نہیں تاب
حسن اکبرؑ کو فقط دیکھنے آیا ہے شباب
یوں بسر کرتے ، نہ آہوں کے دھویں میں رہتے
گر حسیں ہوتے تو یوسفؑ نہ کنویں میں رہتے
گھر کے فوجوں سے نکل آئیں تو جعفرؑ بھی کہو
سارے لشکر کے بھگا دینے پہ حیدرؑ بھی کہو
سب سے اعلی تو اک شخص سے بہتر بھی کہو
دیکھ لو آنکھ سے صورت تو پیمبر بھی کہو
شیر کے خوف سے ہر یک کا دم بند ہوا
جو جہاں پرتھا وہیں خاک کا پیوند ہوا

Introduction credit: Zeeshan Zaidi, UK

Marsiya Source: Shua e Amal, Lucknow

MARASI E JAVED IJHTEHADI

 

GARDOON SE BHI BALAND HAI ZEHN E RESA MERA

HAAN ZUBAN TABAY KHUDADAD KI SORAT DIKHLA

HAN ZUBAN PHIR SE GOHAR REZ DAHAN HO MERA

KON DUNYA MAIN NAHIN AAJ SANA KHWAN MERA

QABILE SAMAY ANADIL HAI TALAQAT MERI

SHUKR SAD SHUKR KE PHIR AAK ZUBAN KHULTI HAI

TOTAL MARSIYAS = 6

 

385total visits,1visits today

eMarsiya – Spreading Marsiyas Worldwide